16 مارچ 2013 - 20:30

ایس یو سی کے سربراہ نے جھنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی ایجنڈے پر چلنے والہ شدت پسند تکفیری ٹولہ ملک میں بدامنی پھیلا کر اپنے مضموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، ریاستی ادارے ہوش کے ناخن لیں۔

ابنا: شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید سجاد علی نقوی نے مدرسہ امام سجاد (ع) ایوب چوک جھنگ صدر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ کی بھرپور مذمت کی اور کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ، عباس ٹاؤن اور دیگر واقعات فرقہ وارنہ نہیں اور نہ ہی پاکستان میں کوئی شیعہ سنی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چند بیرونی ایجنٹ ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردانہ کاروائیاں کر رہے ہیں اور ان واقعات کو فرقہ وارنہ رنگ دے کر شیعہ سنی بھائیوں کو آپس میں دست وگریبان کرانا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایسے عناصر کی بھرپورمذمت کرتے ہیں اور ان کے مضموم مقاصد پورے نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی آپس میں بھائی ہیں لیکن بیرونی ایجنڈے پر چلنے والا شدت پسند تکفیری ٹولہ ملک میں بدامنی پھیلا کر اپنے مضموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے ایم ایم اے اور ملی یکجہتی کونسل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے پلیٹ فارمز پر اکٹھے بیٹھے ہیں، اگر کوئی شیعہ سنی کا مسئلہ اور جھگڑا ہوتا تو وہاں ہم اکٹھے نہ بیٹھتے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی اور دہشت گردوں کے خلاف سنجیدگی سے کاروائیاں نہیں کیں گیں، جس کی وجہ سے یہ عناصر مضبوط ہوئے ہیں۔ انتخابات کے حوالے سے علامہ سید سجاد علی نقوی نے کہا کہ ہماری اولین ترجیع ہے کہ مذہبی جماعتوں پر مشتمل کوئی پلیٹ فارم وجود میں آجائے، اگر ایسا ممکن نہ ہوا قومی مفادات کو دیکھتے ہوئے اسلامی تحریک پاکستان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرے گی۔ جھنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم جھنگ میں امن دیکھنا چاہتے ہیں، جھنگ میں پہلے بھی ہماری حکمت عملی کی وجہ سے تکفیری عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے اور اس بار بھی عوامی خواہشات اور حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے تکفیریوں کو پارلیمنٹ میں نہیں جانے دیں گے۔ پریس کانفرنس کے بعد شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید سجاد علی نقوی سے سابق ایم این اے نواب امان اللہ سیال، امیدار برائے صوبائی اسمبلی شیخ دانیال، جماعت اسلامی کے رہنما اور امیدوار برائے قومی اسمبلی ڈاکٹر عبدالجبار سمیت مختلف وفود نے ملاقاتیں کی اور ملکی اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

.....

/169